❮
❯
حدیث نمبر: 1930
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، ثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ - أَحْسَبُهُ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ - قَالَ : أَخْرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَقَّةَ خَمِيصَةٍ سَوْدَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَعَقَدَهَا عَلَى رُمْحٍ ثُمَّ هَزَّهَا ، فَقَالَ : مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا ؟ فَهَابَهَا الْمُسْلِمُونَ مِنْ أَجْلِ الشَّرْطِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنَا آخُذُهَا بِحَقِّهَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُقَاتِلْ بِهَا مُسْلِمًا ، وَلَا تَفِرَّ بِهَا مِنْ كَافِرٍ .
ترجمہ

بنو بکر بن وائل کے ایک بزرگ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے سیاہ رنگ کی منقش چادر کا ایک ٹکڑا نکالا، اسے نیزے پر باندھ کر لہرایا اور پھر ارشاد فرمایا: ”کون ہے جو اسے اس کے حق کے ساتھ تھامے؟“ مسلمان اس کے ساتھ وابستہ کڑی شرط کی وجہ سے رعب میں آ گئے (اور خاموش رہے)، پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اسے اس کے حق کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔“ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(اس کا حق یہ ہے کہ) اس کے ذریعے کسی مسلمان سے قتال نہ کرنا اور نہ ہی اسے لے کر کسی کافر کے سامنے سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا۔“
اس حدیثِ مبارکہ میں جہاد کے آداب اور اسلامی علمبردار کی بنیادی ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی پرچم صرف کفر کے مقابلے اور حق کی سربلندی کے لیے ہے، نہ کہ مسلمانوں کے باہمی فتنہ و فساد کے لیے، اور میدانِ جنگ میں اس کے ساتھ ثابت قدمی ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1930
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث الباب إسناده فيه راو مبهم لم أعرف من هو، لكن لمتنه شاهد صحيح، تقدم تخريجه من حديث أنس عند مسلم، والزبير بن العوام عند الحاكم وغيرهما. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»