المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قتال المسلم باب: مسلمان سے لڑائی جھگڑا اور قتال کرنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، ثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ - أَحْسَبُهُ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ - قَالَ : أَخْرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَقَّةَ خَمِيصَةٍ سَوْدَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَعَقَدَهَا عَلَى رُمْحٍ ثُمَّ هَزَّهَا ، فَقَالَ : مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا ؟ فَهَابَهَا الْمُسْلِمُونَ مِنْ أَجْلِ الشَّرْطِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنَا آخُذُهَا بِحَقِّهَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُقَاتِلْ بِهَا مُسْلِمًا ، وَلَا تَفِرَّ بِهَا مِنْ كَافِرٍ .بنو بکر بن وائل کے ایک بزرگ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے سیاہ رنگ کی منقش چادر کا ایک ٹکڑا نکالا، اسے نیزے پر باندھ کر لہرایا اور پھر ارشاد فرمایا: ”کون ہے جو اسے اس کے حق کے ساتھ تھامے؟“ مسلمان اس کے ساتھ وابستہ کڑی شرط کی وجہ سے رعب میں آ گئے (اور خاموش رہے)، پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اسے اس کے حق کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔“ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(اس کا حق یہ ہے کہ) اس کے ذریعے کسی مسلمان سے قتال نہ کرنا اور نہ ہی اسے لے کر کسی کافر کے سامنے سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا۔“
اس حدیثِ مبارکہ میں جہاد کے آداب اور اسلامی علمبردار کی بنیادی ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی پرچم صرف کفر کے مقابلے اور حق کی سربلندی کے لیے ہے، نہ کہ مسلمانوں کے باہمی فتنہ و فساد کے لیے، اور میدانِ جنگ میں اس کے ساتھ ثابت قدمی ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔