❮
❯
حدیث نمبر: 1928
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ - هُوَ ابْنُ حَرْبٍ - ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ - ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ ، ثَنَا حَنَانُ بْنُ خَارِجَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ لِي : يَا حَنَانُ ، ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَجَاهِدْهَا ، يَا عَبْدَ اللهِ ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَاغْزُهَا ; فَإِنَّكَ إِنْ قُتِلْتَ فَارًّا بَعَثَكَ اللهُ فَارًّا ، وَإِنْ قُتِلْتَ مُرَائِيًا بَعَثَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مُرَائِيًا ، وَإِنْ قُتِلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى صَابِرًا مُحْتَسِبًا .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حنان بن خارجہ سے فرمایا: ”اے حنان! اپنے نفس سے آغاز کرو اور اسی کے خلاف جہاد کرو، اے اللہ کے بندے! اپنی ہی ذات سے ابتدا کرو اور اسی کے خلاف نبرد آزما ہو؛ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر تم (میدانِ جنگ سے) فرار اختیار کرتے ہوئے مارے گئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فراری کی حالت میں ہی اٹھائے گا، اور اگر تم نے محض شہرت اور دکھلاوے کے لیے جان دی تو اللہ عزوجل تمہیں ریاکار بنا کر مبعوث فرمائے گا، لیکن اگر تم نے ثابت قدمی دکھاتے ہوئے اور محض اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت سے جان قربان کی تو اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں قیامت کے روز صابر اور طالبِ ثواب کی حیثیت میں ہی دوبارہ زندہ فرمائے گا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1928
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد أبي يعلى، فيه حنان بن خارجة مجهول الحال، ومدار الطرق عليه. »
«أخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 5841، وأخرجه مسند أحمد برقم: 7009، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 2391، وأخرجه مسند البزار برقم: 2434، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14562»