❮
❯
حدیث نمبر: 1927
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيُّ قَالَ : إِنَّ نَاسًا ، كَانُوا بِالْكُوفَةِ مَعَ ابْنِ الْمُخْتَارِ - يَعْنِي وَالِدَ الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، حَيْثُ قُتِلَ بِجِسْرِ أَبِي عُبَيْدٍ - قَالَ : فَقُتِلُوا إِلَّا رَجُلَيْنِ حُمِلَا عَلَى الْعَدْوِ بِأَسْيَافِهِمَا ، فَأَفْرَجُوا لَهُمَا فَنَجَيَا ، أَوْ ثَلَاثَةً فَأَتَوُا الْمَدِينَةَ ، فَخَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُمْ قُعُودٌ يَذْكُرُونَهُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عَمَّ قُلْتُمْ لَهُمْ ؟ قَالُوا : اسْتَغْفَرْنَا لَهُمْ وَدَعَوْنَا لَهُمْ . قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَتُحَدِّثُنِّي بِمَا قُلْتُمْ لَهُمْ أَوْ لَتَلْقَوْنَ مِنِّي فُتُوحًا . قَالُوا : إِنَّا قُلْنَا : إِنَّهُمْ شُهَدَاءُ . قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ ، وَالَّذِي لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، مَا تَعْلَمُ نَفْسٌ حَيَّةٌ مَاذَا عِنْدَ اللهِ لِنَفْسِ مَيِّتَةٍ ، إِلَّا نَبِيُّ اللهِ ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى غَفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ ، وَالَّذِي لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ رِيَاءً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، وَيُقَاتِلُ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَيُقَاتِلُ يُرِيدُ الْمَالَ ، وَمَا لِلَّذِينَ يُقَاتِلُونَ عِنْدَ اللهِ إِلَّا مَا فِي نُفُوسِهِمْ .
رِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ .
ترجمہ

ابو البختری الطائی سے روایت ہے کہ کوفہ میں کچھ لوگ (مختار بن ابو عبید کے والد) ابن المختار کے ساتھ تھے جب وہ ’جسرِ ابو عبید‘ کے مقام پر شہید ہوئے، راوی بیان کرتے ہیں کہ وہاں موجود تمام لوگ قتل کر دیے گئے سوائے دو یا تین آدمیوں کے جنہوں نے اپنی تلواریں تان کر دشمن پر زوردار حملہ کیا تو دشمن نے ان کے لیے راستہ خالی کر دیا اور وہ بچ نکلے، پھر وہ مدینہ منورہ آئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے جبکہ وہ لوگ بیٹھے ہوئے مقتولین کا تذکرہ کر رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”تم نے ان کے بارے میں کیا بات کہی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نے ان کے لیے مغفرت طلب کی اور دعا کی، آپ رضی اللہ عنہ نے جلال میں آ کر فرمایا: ”تم مجھے صاف صاف بتاؤ کہ تم نے ان کے حق میں کیا الفاظ کہے ہیں ورنہ تم مجھ سے سختی پاؤ گے“، انہوں نے عرض کیا: ہم نے انہیں ’شہید‘ قرار دیا ہے، یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اور اس ذات کی قسم جس کے حکم کے بغیر قیامت برپا نہ ہوگی، کوئی زندہ جان یہ نہیں جانتی کہ اللہ کے ہاں کسی مردہ جان کے لیے کیا اجر و مقام ہے سوائے اللہ کے نبی ﷺ کے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا ہے: ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ (سورة الفتح: 2) ”تاکہ اللہ آپ کی خاطر وہ سب معاف کر دے جو آپ سے پہلے ظاہر ہوئے اور جو بعد میں ہوئے“، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ قسم کھا کر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اور اس ذات کی قسم جس کے اذن کے بغیر قیامت نہیں آئے گی، حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص محض دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، کوئی قومی عصبیت و حمیت میں لڑتا ہے، کوئی دنیا کے لالچ میں لڑتا ہے اور کوئی مال و دولت کے حصول کے لیے جنگ کرتا ہے، اور اللہ کے ہاں ان قتال کرنے والوں کے لیے وہی اجر ثابت ہے جو ان کی نیتوں میں تھا“۔
اس روایت کے تمام رجال ثقہ ہیں البتہ یہ روایت سنداً منقطع ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1927
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد رجاله ثقات، إلَّا أن فيه انقطاعًا؛ لأن أبا البختري لم يسمع من عمر كما في جامع التحصيل (ص 183) وغيره. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»