المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقْبِضُ أَرْوَاحَ شُهَدَاءِ الْبَحْرِ بِيَدِهِ ، وَلَا يَكِلُهُمْ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ ، وَمَثَلُ رُوحِهِ حِينَ تَخْرُجُ مِنْ صَدْرِهِ كَمَثَلِ اللَّبَنِ حِينَ يَدْخُلُ صَدْرَهُ .ترجمہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ سمندر کے شہداء کی روحیں خود (اپنے دستِ قدرت سے) قبض فرماتا ہے اور انہیں ملک الموت کے سپرد نہیں کرتا، اور (شہید کی) روح جب اس کے سینے سے نکلتی ہے تو اس کی مثال ایسی ہی (راحت بخش اور سہل) ہوتی ہے جیسے دودھ (بچے کے) سینے میں داخل ہوتا ہے۔“
ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک اس روایت کی سند داؤد بن المحبر اور عباد بن کثیر جیسے ضعیف راویوں کی موجودگی کے سبب استنادی طور پر کمزور ہے۔