المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
حدیث نمبر: 1923
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّهَدَاءُ ، فَقَالَ : الَّذِينَ إِذَا لَقُوا الْعَدُوَّ لَمْ يَلْفِتُوا وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا ، أُولَئِكَ الَّذِينَ يَتَلَبَّطُونَ فِي الْغُرُفَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيَضْحَكُ رَبُّهُمْ إِلَيْهِمْ ، وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي مَوْطِنٍ فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں شہداء کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(حقیقی شہید) وہ لوگ ہیں کہ جب دشمن سے ان کا آمنا سامنا ہو تو وہ اپنے رخ نہیں پھیرتے یہاں تک کہ قتل کر دیے جائیں، یہی وہ بلند بخت لوگ ہیں جو جنت کے بالا خانوں میں نہایت عیش و اطمینان کے ساتھ قیام پذیر ہوں گے اور ان کا رب ان کی جانب دیکھ کر تبسم فرمائے گا، اور یاد رکھو کہ جب تمہارا رب کسی مقام پر اپنے بندے کی جانب مسکرا دے تو پھر اس پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔“