المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ قَيْسٍ : وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، بِبَعْضِهِ وَقَتَادَةُ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَالضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَالْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الشُّهَدَاءُ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا لَا يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَ وَلَا يُقْتَلَ ، فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ كُلُّهَا ، وَنَجَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ ، وَزُوِّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَيُحَلُّ عَلَيْهِ حُلَّةُ الْكَرَامَةِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْخُلْدِ .
وَالثَّانِي : خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَ وَلَا يُقْتَلَ ، فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ كَانَتْ رُكْبَتُهُ بِرُكْبَةِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ بَيْنَ يَدَيِ اللهِ ، فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ .
قُلْتُ : هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ مَا أَجْهَلَ مَنِ افْتَرَاهُ وَأَجْرَأَهُ عَلَى اللهِ تَعَالَى .سیدنا انس بن مالک، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شہداء کی تین اقسام ہیں: ایک وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ صبر و استقامت اور طلبِ ثواب کی نیت سے (میدانِ عمل میں) نکلا، جبکہ اس کا ارادہ نہ کسی کو قتل کرنے کا تھا اور نہ خود قتل ہونے کا، پس اگر وہ طبعی موت مر جائے یا شہید کر دیا جائے تو اس کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں، وہ عذابِ قبر سے نجات پا جاتا ہے، روزِ قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا، اس کا نکاح بڑی آنکھوں والی حوروں سے کر دیا جائے گا، اسے بزرگی و کرامت کا لباسِ فاخرہ پہنایا جائے گا اور اس کے سر پر ہمیشگی کا تاج سجایا جائے گا۔ اور دوسرا وہ شخص: جو حصولِ ثواب کی نیت سے اپنی جان اور مال لے کر نکلا، وہ دشمن کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر خود قتل ہونا نہیں چاہتا تھا، چنانچہ اگر وہ فوت ہو جائے یا قتل کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے حضور سچائی کی نشست ﴿فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ﴾ (سورۃ القمر: ۵۵) میں اس کا مقام ایسا بلند ہوگا کہ اس کا گھٹنا اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے گھٹنے کے ساتھ ہوگا۔“
میں (محقق) عرض کرتا ہوں کہ یہ ایک موضوع اور من گھڑت روایت ہے، وہ شخص کس قدر جاہل تھا جس نے اسے افتراء کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی کرنے میں کتنا نڈر اور بیباک تھا۔