المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى - هُوَ ابْنُ حَمَّادٍ - ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ لَيْثًا - هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ - يُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : ذُكِرَ الطَّاعُونُ ، فَذَكَرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَخْزٌ يُصِيبُ أُمَّتِي مِنْ أَعْدَائِهِمْ مِنَ الْجِنِّ ، غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَطْنِ ، مَنْ أَقَامَ عَلَيْهَا كَانَ مُرَابِطًا ، وَمَنْ أُصِيبَ بِهِ كَانَ شَهِيدًا ، وَمَنْ فَرَّ مِنْهُ كَانَ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ .
إِسْنَادُهُ وَاهٍ مِنْ أَجْلِ لَيْثٍ وَشَيْخِهِ .ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ طاعون کا تذکرہ ہوا تو میں نے ذکر کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارے جنات میں سے دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی ایک چبھن ہے جو میری امت کو لاحق ہوتی ہے، یہ اونٹ کی گلٹی کی مانند ایک گلٹی (پھوڑا) ہے، جو اس (وبا) کی موجودگی میں (صبر و ثبات کے ساتھ) مقیم رہا وہ اللہ کی راہ میں پہرہ دینے والے مجاہد کی مانند ہے، جو اس بیماری کا شکار ہوا وہ شہید ہے، اور جو اس سے (ڈر کر) بھاگ نکلا وہ ایسا ہے جیسے کوئی میدانِ جنگ سے پیٹھ دکھا کر فرار ہو جائے“۔
اس روایت کی سند لیث بن ابی سلیم اور ان کے استاد کے مبہم ہونے کی وجہ سے انتہائی کمزور ہے۔