المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ طَعْنًا وَطَاعُونًا . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ قَدْ سَأَلْتَ مَنَايَا أُمَّتِكَ ، فَهَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : دَرَنٌ كَالدُّمَّلِ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ فَسَتَرَاهُ
إِسْنَادُهُ وَاهٍ مِنْ أَجْلِ جَعْفَرٍ .سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں غارِ ثور میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ موجود تھا، اس وقت آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ طَعْنًا وَطَاعُونًا» ”اے اللہ! (میری امت کو) نیزوں کی چھب اور طاعون کی موت عطا فرما۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں جانتا ہوں کہ آپ نے اپنی امت کے لیے موت کی صورتوں کا سوال کیا ہے، پس نیزوں کے زخم (میدانِ جنگ کی شہادت) کو تو ہم جانتے ہیں، مگر یہ طاعون کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ جسم کے اندرونی حصے میں بننے والی ایک ایسی رسولی یا عفونت ہے جو پھوڑے کی مانند ہوتی ہے، اگر تمہاری زندگی طویل ہوئی تو تم عنقریب اسے دیکھ لو گے۔“
اس حدیث کی سند جعفر بن زبیر نامی راوی کی وجہ سے نہایت کمزور اور نا قابلِ اعتبار ہے۔