المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ - يَعْنِي الْوَاشِحِيَّ - حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : أُصِيبَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي ثَنْدُوَتِهِ بِسَهْمٍ ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : انْزِعِ السَّهْمَ ، فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَالْقُطْنَةَ ، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْنَةَ ، وَشَهِدْتُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ ؟ . فَقُلْتُ : انْزِعِ السَّهْمَ وَاتْرُكِ الْقُطْنَةَ ، وَاشْهَدْ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَنَزَعَ السَّهْمَ وَتَرَكَ الْقُطْنَةَ ، فَعَاشَ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْ بَعْدَهُ مَاتَ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَأَرَادُوا أَنْ يُخْرِجُوهُ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنَّ مِثْلَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ لَا يُخْرَجُ بِهِ حَتَّى يُؤْذَنَ مَنْ حَوْلَنَا مِنَ الْقُرَى ، فَجَلَسَ مِنَ الْغَدِ ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ أُخْرِجَ ، فَبَكَتْ مَوْلَاةٌ لَهُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنَّ الشَّيْخَ لَا طَاقَةَ لَهُ بِعَذَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، مِنْ هَذِهِ السَّفِيهَةِ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا .
1913 \ 2 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، فَذَكَرَ بَعْضَهُ .سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی زوجہ (دادیِ راوی) سے روایت ہے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ غزوہ احد کے دن اپنے سینے کے بالائی حصے میں تیر لگنے سے زخمی ہوئے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ (اے اللہ کے رسول!) یہ تیر نکال دیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تیر اور اس کا پھل (نوک) دونوں نکال دوں، اور اگر تم چاہو تو میں صرف تیر نکال دوں اور اس کا پھل (جسم کے اندر) رہنے دوں اور قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دوں کہ تم شہید ہو؟“ انہوں نے عرض کی کہ آپ تیر نکال دیں اور اس کا پھل رہنے دیں اور قیامت کے دن میرے حق میں گواہی دیں کہ میں شہید ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں (ایسا ہی ہوگا)“، چنانچہ آپ ﷺ نے تیر نکال دیا اور اس کا پھل وہیں چھوڑ دیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوارِ خلافت تک حیات رہے، پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا یا اس کے بعد، تو ان کی وفات عصر کے وقت ہوئی، لوگوں نے (فورا) جنازہ لے جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر ہستی کا جنازہ اس وقت تک نہیں اٹھایا جائے گا جب تک کہ گرد و نواح کی بستیوں والوں کو خبر نہ کر دی جائے، چنانچہ وہ اگلے دن تک رکے رہے، پھر جب اگلا دن ہوا تو جنازہ لایا گیا تو قبر کے کنارے ان کی ایک خادمہ رونے لگی، جس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس بوڑھے (میت) میں اس نادان عورت کے (رونے دھونے) کی وجہ سے اللہ عزوجل کے عذاب کی تاب نہیں ہے یا اسی طرح کے الفاظ کہے۔
امام طیالسی نے بھی اس روایت کا کچھ حصہ بیان کیا ہے۔