المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : خَاصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مَالٍ لَهُ ، فَجَاءَهُ طَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا وَسَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَاعِدٌ مُخْتَرِطًا سَيْفَهُ ، وَاضِعَهُ عَلَى فَخِذَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ طَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لِمَنْ أَعْدَدْتَ هَذَا يَا سَعْدُ ؟ قَالَ : لَكَ . قَالَ : أَوَكُنْتَ فَاعِلًا ؟ قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ ، لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ قَاتَلَ عَلَى مَالِهِ أَوْ مَالٍ لَهُ فَقُتِلَ كَانَ شَهِيدًا .
1912 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، بِهِ .سیدنا ابوبکر بن حفص بن عمر بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما کے مابین کسی مال و متاع کے معاملے میں اختلاف ہو گیا، ایک روز سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو دیکھا کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اپنی تلوار میان سے نکالے اپنے زانوؤں پر رکھے بیٹھے ہیں، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اے سعد! آپ نے یہ تلوار کس کے لیے تیار کر رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے لیے، طلحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ واقعی ایسا کرنے والے تھے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے مال یا اپنی ملکیت کی حفاظت کی خاطر لڑے اور اس جدوجہد میں مارا جائے تو وہ شہید ہے۔“
امام احمد بن منیع رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت ابو احمد زبیری کے واسطے سے ابان بن عبد اللہ سے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔