المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا جُوَيْبِرٌ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْقَتِيلُ دُونَ أَهْلِهِ شَهِيدٌ ، وَالْقَتِيلُ دُونَ جَارِهِ شَهِيدٌ ، وَكُلُّ قَتِيلٍ فِي جَنْبِ اللهِ تَعَالَى شَهِيدٌ .
1914 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ثَنَا جُوَيْبِرٌ ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ مَظْلُومًا فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ نَفْسِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ جَارِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ قُتِلَ فِي جَنْبِ اللهِ تَعَالَى فَهُوَ شَهِيدٌ .
فِيهِ انْقِطَاعٌ .امام احمد بن منیع کی روایت کے مطابق سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہونے والا شہید ہے، اپنے پڑوسی کے دفاع میں جان دینے والا شہید ہے، اور ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔“ اسی طرح امام حارث نے بھی اسے ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مظلومیت کی حالت میں قتل کر دیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنی جان کے تحفظ میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے اہل خانہ کے دفاع میں قتل ہو وہ شہید ہے، جو اپنے پڑوسی کی خاطر جان قربان کرے وہ شہید ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔“
ائمہِ فن کے نزدیک اس روایت کی سند میں انقطاع (سلسلہِ روایت کا درمیان سے ٹوٹنا) پایا جاتا ہے۔