❮
❯
حدیث نمبر: 1910
قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَطَفَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَقِيَنِي يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ مَالِي ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَاشِدْهُ اللهَ تَعَالَى - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ ، فَإِنْ قَتَلَكَ دَخَلْتَ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ قَتَلْتَهُ دَخَلَ النَّارَ .
ترجمہ

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا ارشاد ہے اس شخص کے بارے میں جو مجھ سے سامنا ہونے پر میرا مال چھیننے کا ارادہ رکھتا ہو؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے تین مرتبہ اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر (ظلم سے باز رہنے کی) فہمائش کرو، پھر اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے قتال کرو؛ پس اگر وہ تمہیں قتل کر دے تو تم جنت میں داخل ہو گے اور اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ آگ (جہنم) میں جائے گا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب القصاص / حدیث: 1910
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :وأورده البوصيري في الإتحاف (3/ 131/ ب) من مسند عبد بن حميد، وقال: "هذا إسناد ضعيف؛ لضعف محمَّد بن عمر الواقدي". »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 994»