المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القصاص— قصاص کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مِقْدَارِ الدية وتقويمها باب: دیت کی مقدار اور اس کی قیمت کے تعین کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كَانَتِ الدِّيَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةَ أَسْنَانٍ : خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ ، حَتَّى كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَصَّرَ الْأَمْصَارَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُونَ الْإِبِلَ فَقَوِّمُوا الْإِبِلَ بِأُوقِيَّةٍ أُوقِيَّةٍ ، فَكَانَتْ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ، ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقَوِّمُوا الْإِبِلَ ، فَقُوِّمَتْ أُوقِيَّةً وَنِصْفً ، قَالَ : فَكَانَتْ سِتَّةَ آلَافٍ ، ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقَوِّمُوا الْإِبِلَ ، فَقُوِّمَتْ أُوقِيَّتَيْنِ ، فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ آلَافٍ ، ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقَوِّمُوا الْإِبِلَ فَقُوِّمَتْ أُوقِيَّتَيْنِ وَنِصْفًا فَكَانَتْ عَشَرَةَ آلَافٍ ، ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقَوِّمُوا الْإِبِلَ ، فَقُوِّمَتِ الْإِبِلُ ثَلَاثَةَ أَوَاقٍ ، فَكَانَتِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ ، قِيمَةُ كُلِّ حُلَّةٍ خَمْسَةُ دَنَانِيرَ ، وَعَلَى أَهْلِ الضَّأْنِ أَلْفَ ضَانِيَةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَعْزِ أَلْفَيْ مَاعِزَةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ .
أَبُو مَعْشَرٍ وَشَيْخُهُ ضَعِيفَانِ .سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک عہد میں دیت (خون بہا) کی مقدار اونٹوں کی چار مختلف عمروں پر مشتمل تھی جن میں پچیس حقہ (وہ اونٹنیاں جو چوتھے سال میں ہوں)، پچیس جذعہ (جو پانچویں سال میں ہوں)، پچیس بنت لبون (جو تیسرے سال میں ہوں) اور پچیس بنت مخاض (جو دوسرے سال میں ہوں) شامل تھے؛ یہ ترتیب برقرار رہی یہاں تک کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا اور انہوں نے مختلف شہر آباد کیے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”تمام لوگوں کے پاس اونٹ دستیاب نہیں ہوتے، اس لیے تم اونٹوں کی قیمت ایک ایک اوقیہ چاندی کے حساب سے متعین کرو“، چنانچہ اس وقت دیت کی کل رقم چار ہزار درہم بنی، پھر جب اونٹ مہنگے ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ قیمت کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا تو وہ ڈیڑھ اوقیہ کے حساب سے چھے ہزار ہو گئی، پھر جب قیمت میں مزید اضافہ ہوا تو آپ کے حکم پر قیمت لگائی گئی جو دو اوقیہ کے حساب سے آٹھ ہزار تک پہنچ گئی، پھر جب اونٹ مزید گراں ہوئے تو آپ کے حکم پر ڈھائی اوقیہ فی اونٹ کے حساب سے دس ہزار کی رقم مقرر ہوئی، آخر کار جب قیمتیں اور بڑھیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر قیمت کا دوبارہ تعین کیا گیا جو تین اوقیہ فی اونٹ کے حساب سے بارہ ہزار درہم قرار پائی، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے چاندی والوں پر بارہ ہزار درہم، سونے کا لین دین کرنے والوں پر ایک ہزار دینار، اونٹ والوں پر سو اونٹ، لباس کے تاجروں پر دو سو جوڑے (حلے) بشرطیکہ ہر جوڑے کی مالیت پانچ دینار ہو، بھیڑ والوں پر ایک ہزار بھیڑیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں اور گائے والوں پر دو سو گائیں بطورِ دیت مقرر فرما دیں
اس حدیث کے راوی ابو معشر اور ان کے استاد (صالح بن ابی الاخضر) دونوں ضعیف ہیں۔