❮
❯
حدیث نمبر: 1908
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظِبْيَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : هَشَّمَ رَجُلٌ فَمَ رَجُلٍ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الدِّيَةَ ، فَأَبَاهَا ، فَزَادُوهُ حَتَّى أَعْطَوْهُ ثَلَاثَ دِيَاتٍ ، قَالَ : فَحَدَّثَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ تَصَدَّقَ بِدَمٍ أَوْ بِمَا دُونَهُ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ مِنْ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلَى يَوْمِ تَصَدَّقَ بِهِ " قَالَ : فَعَفَا الرَّجُلُ .
1908 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، بِهِ .
ترجمہ

عدی بن ثابت سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک شخص نے دوسرے کا منہ زخمی کر کے توڑ دیا، اس پر متاثرہ شخص کو دیت (خون بہا) کی پیشکش کی گئی مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا، لوگوں نے دیت کی رقم بڑھائی یہاں تک کہ اسے تین دیتوں کے برابر مال کی پیشکش کی، اسی دوران نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی کے خون یا اس سے کم درجے کے کسی زخم کو (اللہ کی رضا کے لیے) صدقہ کر دیا یعنی معاف کر دیا، تو یہ عمل اس کی پیدائش کے دن سے لے کر اس معافی کے دن تک کے تمام گزشتہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔“ یہ فضیلت سن کر اس شخص نے (اپنا حق) معاف کر دیا۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ اس روایت کو محمد بن عباد کے واسطے سے سفیان سے اسی طرح نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب القصاص / حدیث: 1908
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مدار إسناد الحديث على عمران، وهو ضعيف. »
«أخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 762، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6869، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1908 / 2»