❮
❯
حدیث نمبر: 1903
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعْتُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَجَدْتُ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا : أَنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عُتُوًّا مَنْ ضَرَبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ ، وَرَجُلًا قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، وَرَجُلًا تَوَلَّى غَيْرَ نِعْمَتِهِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ، وَفِي الْأَجْرِ: الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ ، وَيَسْعَى بِدَمِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ ، وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ لَيَالٍ مَعَ غَيْرِ مَحْرَمٍ .
ترجمہ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستے میں ایک تحریر پائی جس میں مرقوم تھا: ”بلاشبہ لوگوں میں سرکشی کے اعتبار سے سب سے سخت وہ شخص ہے جو ایسے کو مارے جس نے اسے نہیں مارا، اور وہ شخص جو (بدلے میں) اسے قتل کرے جس نے اسے قتل نہیں کیا، اور وہ شخص جو اپنے اصل محسنوں (آزاد کرنے والوں) کے بجائے کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لے؛ پس جس نے ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، اور اس کا کوئی فرض یا نفل عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور اس تحریر میں یہ احکام بھی درج تھے کہ: تمام مسلمانوں کے خون (قصاص و دیت میں) برابر ہیں، ان کا ایک عام آدمی بھی ان سب کی طرف سے پناہ دینے کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے، کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی معاہد (ذمی) کو اس کی مدتِ معاہدہ کے دوران قتل کیا جائے گا، دو مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے، کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں (یعنی بیک وقت دونوں کو نکاح میں جمع کر کے) نکاح نہیں کیا جائے گا، عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی (نفل) نماز نہیں ہے، اور کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر تین راتوں کی مسافت کا سفر نہ کرے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب القصاص / حدیث: 1903
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث عند أبي يعلى (8/ 197: 4757) بلفظه. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10747، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3035/3، 4899، 4989»