❮
❯
حدیث نمبر: 1902
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ : إِنَّ حَمَلَ بْنَ النَّابِغَةِ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ : مُلَيْكَةُ وَأُمُّ عَفِيفٍ ، فَقَذَفَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَصَابَتْ فِي قَلْبِهَا ، فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى أَنَّ الدِّيَةَ عَلَى قَوْمِ الْعَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ ، وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ : عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، أَوْ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ ، أَوْ مِائَةُ شَاةٍ . قَالَ وَلِيُّهَا - أَوْ أَبُوهَا - : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَسْنَا مِنْ أَسَاجِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي شَيْءٍ .
ترجمہ

سیدنا ابو الملیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حمل بن نابغہ کی دو بیویاں تھیں جن کے نام ملیکہ اور امِ عفیف تھے؛ ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا جو اس کے پہلو (جسم کے درمیانی حصے) پر لگا، جس کے سبب اس کا مردہ بچہ ساقط ہو گیا۔ جب یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں پیش ہوا تو آپ ﷺ نے فیصلہ صادر فرمایا کہ ”دیت (خون بہا) کی ادائیگی قاتلہ کے عاقلہ (قبیلے کے مردوں) پر لازم ہوگی، اور جنین کے بدلے ایک 'غرہ' یعنی ایک غلام یا لونڈی، یا دس اونٹ، یا سو بکریاں دینا ہوں گی“۔ اس پر اس (قاتلہ) کے ولی یا والد نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس کا جرمانہ کیسا جس نے نہ کچھ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی پیدا ہو کر چیخا؟ ایسی صورت میں تو تاوان کالعدم ہو جانا چاہیے؛ تب رسول اللہ ﷺ نے (اس کی مسجع جاہلانہ کلام پر) ارشاد فرمایا: ”ہمارا جاہلیت کی سجع گوئی (قافیہ پیمائی) سے کوئی تعلق نہیں ہے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب القصاص / حدیث: 1902
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث عند الحارث في مسنده كما في بغية الباحث للهيثمي (2/ 569 - 570: 523). »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10787، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3408»