المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القصاص— قصاص کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الديات باب: دیتوں (یعنی قتل یا جانی نقصان کے بدلے واجب الادا مالی معاوضوں) کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا مُجَالِدٌ ، ثَنَا الشَّعْبِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : وَكَانَتْ حُبْلَى فَقَالَ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ : إِنَّهَا كَانَتْ حُبْلَى وَأَلْقَتْ جَنِينًا ، فَخَافَ عَاقِلَةُ الْقَاتِلَةِ أَنْ يُضَمِّنَهُمْ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا سَجْعُ الْجَاهِلِيَّةِ . فَقَضَى فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ .
قُلْتُ : وَأَصْلُهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ .
وَرَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ مُتَّصِلًا .
1901 \ 2 - قَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرِّيُّ ، ثَنَا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ تَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ فِينَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ لَهُ امْرَأَتَانِ : إِحْدَاهُمَا هُذَلِيَّةٌ ، وَالْأُخْرَى عَامِرِيَّةٌ ، فَضَرَبَتِ الْهُذَلِيَّةُ الْعَامِرِيَّةَ بِعَمُودِ خِبَاءٍ أَوْ فُسْطَاطٍ ، فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا ، فَانْطَلَقَ بِالضَّارِبَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَخٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ عِمْرَانُ بْنُ عُوَيْمِرٍ . فَذَكَرَهُ وَزَادَ فِيهِ : أَوْ خَمْسُمِائَةٍ أَوْ فَرَسٌ . فَقَالَ عِمْرَانُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، إِنَّ لَهَا ابْنَيْنِ هُمَا سَادَةُ الْحَيِّ ، وَهُمَا أَحَقُّ أَنْ يَعْقِلُوا عَنْ أُمِّهِمْ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَعْقِلَ عَنْ أُخْتِكَ مِنْ وَلَدِهَا . فَقَالَ : مَا لِي شَيْءٌ أَعْقِلُ فِيهِ . قَالَ : " يَا حَمَلُ بْنَ مَالِكٍ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ ، وَهُوَ زَوْجُ الْمَرْأَتَيْنِ وَأَبُو الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ - اقْبِضْ مِنْ تَحْتِ يَدِكَ مِنْ صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ شَاةٍ فَفَعَلَ .
1901 \ 3 - وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : حَدَّثَنَا الطَّبَرَانِيُّ بِهِ .
1901 \ 4 - رَوَاهُ ابْنُ مَنْدَهْ مِنْ طَرِيقِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الْمِنْهَالِ بِهِ ، نَحْوَهُ لَكِنْ مُخْتَصَرًا ، وَفِيهِ : فَقَالَ : أَدِّهِ لِأَخِيهَا عِمْرَانَ بْنِ عُوَيْمِرٍ ، فَقَالَ : أَدِي مَنْ لَا أَكَلَ ... الْحَدِيثَ .
1901 \ 5 - وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ : لِحْيَانِيَّةٌ وَمُعَاوِيَّةٌ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَأَنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا فَتَغَايَرَتَا ، فَرَفَعَتِ الْمُعَاوِيَّةُ حَجَرًا فَرَمَتِ اللِّحْيَانِيَّةَ وَهِيَ حُبْلَى ، وَقَدْ تَلِفَتْ فَقَتَلَتْهَا وَأَلْقَتْ غُلَامًا . فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ لِعِمْرَانَ بْنِ عُوَيْمِرٍ : أَدِّ إِلَيَّ عَقْلَ امْرَأَتِي ، فَارْتَفَعَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الْعَقْلُ عَلَى الْعَصَبَةِ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے مابین لڑائی ہوئی جس میں ایک نے دوسری کو قتل کر دیا؛ مقتولہ حاملہ تھی تو اس کے اولیاء نے جنین کے ضائع ہونے کا دعویٰ کیا، جس پر قاتلہ کے رشتہ داروں نے تاوان کے خوف سے مسجع کلام میں عذر پیش کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم اس کا تاوان کیسے بھریں جس نے نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی پیدا ہوتے وقت چیخ ماری؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو دورِ جاہلیت کی قافیہ بندی ہے“ اور آپ ﷺ نے جنین کے بدلے ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا۔
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی اصل سنن ابی داؤد میں موجود ہے، اور اسے سلمہ بن تمام نے ابو الملیح کے واسطے سے ان کے والد سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
امام طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حمل بن مالک کی دو بیویاں تھیں، ایک ہذلیہ اور دوسری عامریہ؛ ہذلیہ نے دوسری کو خیمے کے ستون سے مارا جس سے اس کا مردہ بچہ ساقط ہو گیا۔ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیت میں پانچ سو بکریاں یا ایک گھوڑا دینے کا تذکرہ ہوا، اس عورت کے بھائی عمران نے عرض کی کہ اس کے صاحبِ حیثیت بیٹے اپنی ماں کا جرمانہ بھرنے کے زیادہ حقدار ہیں، مگر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی بہن کی طرف سے دیت ادا کرنے کے اس کے بیٹوں کی نسبت زیادہ حقدار ہو“۔ اس کے معذرت کرنے پر آپ ﷺ نے حمل بن مالک سے—جو مقتول بچے کے والد اور ہذیل کے صدقات کے نگران تھے—فرمایا: ”تمہارے پاس قبیلہ ہذیل کے جو صدقات جمع ہیں، ان میں سے ایک سو بیس بکریاں دیت کے طور پر وصول کر لو“، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
امام ابو نعیم نے بھی اسے طبرانی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
ابن مندہ نے بھی اسے مختصرًا روایت کیا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دیت اس کے بھائی عمران بن عویمر کو ادا کرو“۔
نیز امام طبرانی نے حمل بن مالک بن نابغہ سے روایت کیا کہ ان کی دو بیویوں کے مابین غیرت کی بنا پر جھگڑا ہوا اور ایک نے پتھر مار کر دوسری حاملہ عورت کو مع بچے کے ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ شرعی فیصلہ صادر فرمایا: ”دیت کی ادائیگی قاتلہ کے عصبہ (پدری رشتہ داروں) کی ذمہ داری ہے“۔