المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القصاص— قصاص کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الديات باب: دیتوں (یعنی قتل یا جانی نقصان کے بدلے واجب الادا مالی معاوضوں) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1900
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي شِبْهِ الْعَمْدِ : الضَّرْبَةُ بِالْعَصَا ، وَالْحَجَرِ الثَّقِيلِ أَثْلَاثًا : ثُلُثُ جِذَاعٍ ، وَثُلُثُ حِقَاقٍ ، وَثُلُثُ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا . قَالَ يَزِيدُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : خَلِفَةٌ .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قتلِ شبہ عمد (ایسا قتل جو لاٹھی یا بھاری پتھر کی ضرب سے واقع ہو) کے متعلق فیصلہ صادر فرمایا: ”اس کی دیت تین مساوی حصوں پر مشتمل ہو گی: ایک تہائی 'جذاعہ' (پانچ سالہ اونٹنیاں)، ایک تہائی 'حقاق' (چار سالہ اونٹنیاں) اور ایک تہائی 'ثنیہ' (چھ سالہ) سے لے کر اپنے نویں سال کی عمر (بازل) کو پہنچنے والی اونٹنیوں تک۔“
امام یزید کہتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق آپ نے یہ بھی صراحت فرمائی کہ وہ اونٹنیاں «خَلِفَةٌ» یعنی لازماً حاملہ ہونی چاہئیں۔