المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القصاص— قصاص کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الديات باب: دیتوں (یعنی قتل یا جانی نقصان کے بدلے واجب الادا مالی معاوضوں) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1898
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ ، عَنْ رَجُلٍ آخَرَ مِنْ ثَقِيفَ قَدْ سَمَّاهُ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ يَطْلُبُ شَجَّةً ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّا مَعَاشِرَ أَهْلِ الْقُرَى لَا نَتَعَاقَلُ الْمُضَغَ بَيْنَنَا .ترجمہ
قبیلہ ثقیف کے ایک صاحب سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھا کہ اچانک ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور سر کے زخم (شجہ) کا مالی معاوضہ طلب کرنے لگا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم شہروں اور بستیوں کے رہنے والے لوگ آپس میں گوشت کے لوتھڑے جتنا زخم لگنے یا دانت سے کاٹنے (مضغ) جیسے معمولی معاملات میں دیت یا عاقلہ کا تبادلہ نہیں کرتے۔“