المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القصاص— قصاص کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الديات باب: دیتوں (یعنی قتل یا جانی نقصان کے بدلے واجب الادا مالی معاوضوں) کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ قَالَ : إِنَّ عَمْرَو بْنَ مَعْدِي كَرِبَ : أَصَابَ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ بِمَأْمُومَةٍ ، فَأَرَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُقِيدَهُ مِنْهُ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا قَوَدَ فِي مَأْمُومَةٍ . هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَفِيهِ انْقِطَاعٌ . وَقَدْ أَخْرَجَ ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ الْمَرْفُوعَ .
1897 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، بِهِ .عقبہ بن صہبان سے روایت ہے کہ عمرو بن معدی کرب نے قبیلہ بنو کنانہ کے ایک شخص کو مامومہ (سر کا وہ گہرا زخم جو دماغ کی جھلی تک پہنچ جائے) لگا دیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارادہ فرمایا کہ اس سے قصاص (برابری کا بدلہ) لیں، تب سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے: ”مامومہ (دماغ کی جھلی تک پہنچ جانے والے زخم) میں قصاص نہیں ہے“۔
یہ سند ضعیف ہے اور اس میں انقطاع (سلسلہ منقطع ہونا) پایا جاتا ہے، البتہ امام ابن ماجہ نے اس روایت کا مرفوع حصہ نقل کیا ہے، نیز امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند سے اسے روایت کیا ہے۔