❮
❯
حدیث نمبر: 1876
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ : إِنَّ نَاسًا كَانُوا عِنْدَ فُسْطَاطِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - أُرَى ذَلِكَ بِمَكَّةَ - فَمَرَّ بِهِمْ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا لَعَنَهُ أَوْ سَبَّهَ غَيْرِي ، وَكَانَ فِيمَنْ لَعَنَهُ أَوْ سَبَّهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْكُوفِيِّ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى غَيْرِهِ ، فَقَالَ : يَا كُوفِيُّ ، أَتَسُبُّنِي ؟ كَأَنَّهُ يَتَهَدَّدُهُ . قَالَ : فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَقِيلَ لَهُ - يَعْنِي لِلْكُوفِيِّ - : عَلَيْكَ بِطَلْحَةَ . فَانْطَلَقَ مَعَهُ طَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَاللهِ لَأَجْلِدَنَّكَ مِائَةً . قَالَ : طَلْحَةُ : وَاللهِ لَا تَجْلِدُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَانِيًا . فَقَالَ : لَأَحْرِمَنَّكَ عَطَاءَكَ ، فَقَالَ طَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا كُوفِيُّ ، إِنَّ اللهَ يَرْزُقُكَ .
ترجمہ

سیدنا ابو اسید کے مولیٰ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ مکرمہ میں کچھ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمے کے پاس بیٹھے تھے کہ وہاں سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے سوا وہاں موجود تمام لوگوں نے انہیں برا بھلا کہا یا ان پر لعن طعن کی، ان میں کوفہ کا ایک باشندہ بھی شامل تھا جس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دیگر لوگوں کی نسبت زیادہ برہم ہوئے اور اسے گویا دھمکاتے ہوئے فرمایا: ”اے کوفی! کیا تو مجھے سب و شتم کرتا ہے؟“۔ راوی کا بیان ہے کہ جب وہ کوفی شخص مدینہ منورہ آیا تو اسے مشورہ دیا گیا کہ تم سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے رجوع کرو، چنانچہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے (سخت لہجے میں) فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تجھے سو کوڑے ضرور ماروں گا“، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے برجستہ جواب دیا: ”خدا کی قسم! آپ اسے اس وقت تک کوڑے نہیں مار سکتے جب تک یہ زانی ثابت نہ ہو جائے“، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر میں تمہارا سرکاری وظیفہ بند کر دوں گا“، تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: ”اے کوفی! (بے فکر رہ) اللہ تجھے رزق عطا فرمائے گا“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1876
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 31270»