المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ الجلوس عَلَى فراش المغيبة باب: ایسی عورت کے بستر پر بیٹھنے سے متعلق سخت ممانعت اور زجر و توبیخ کا بیان جس کا شوہر (گھر سے) غائب ہو۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُرُوعِ عَلَى عُمَرَ ، فَنَشَرَ كِنَانَتَهُ ، فَسَقَطَتْ صَحِيفَةٌ ، فَإِذَا فِيهَا :
أَلَا أَبْلِغْ أَبَا حَفْصٍ رَسُولًا فِدًا لَكَ مِنْ أَخِي ثِقَةٍ إِزَارِي قَلَائِصَنَا هَدَاكَ اللهُ إِنَّا
شُغِلْنَا عَنْكَ فِي زَمَنِ الْحِصَارِ قَلَائِصُ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ
وَأَسْلَمَ أَوْ جُهَيْنَةَ أَوْ غِفَارِ يُعَقِّلُهُنَّ جَعْدَةُ مِنْ سُلَيْمٍ
مَعَدًّ يَبْتَغِي عُشْرَ الْعِشَارِ فَمَا قُلُصٌ وُجِدْنَ مُعَقَّلَاتٍ
قَفَا سَلْعٍ بِمُجْتَمِعِ النِّجَارِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ادْعُ جَعْدَةَ بْنَ سُلَيْمٍ ، فَدَعَاهُ فَكَلَّمَهُ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَضَرَبَهُ مِائَةً مَعْقُولًا ، وَنَهَاهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى مُغِيبَةٍ .محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مضافاتی بستیوں کا رہنے والا ایک شخص سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے جب اپنا ترکش کھولا تو اس میں سے ایک رقعہ نیچے گرا جس میں یہ منظوم دہائی لکھی تھی: "خبردار! میرا یہ پیغام ابوحفص (سیدنا عمر) تک پہنچا دو، آپ پر میرا وہ وفادار بھائی قربان ہو جو میرا دست و بازو ہے، «هَدَاكَ اللهُ» (اللہ آپ کو ہدایت و استقامت سے نوازے)، ہم تو دشمن کے محاصرے کے باعث آپ سے دور میدانِ جنگ میں مشغول رہے جبکہ بنو سعد بن بکر، اسلم، جہینہ یا غفار کی جوان اونٹنیوں کو بنو سلیم کا جعدہ نامی شخص اپنے قبضے میں رکھتا ہے، وہ تو معمولی سے معمولی چیز کی لالچ رکھتا ہے، یہ جوان اونٹنیاں جبلِ سلع کے پیچھے انصاری قبائل کی بستیوں میں بندھی ہوئی پائی گئی ہیں"۔ یہ فریاد پڑھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: ”جعدہ بن سلیم کو میرے پاس بلا لاؤ“، چنانچہ اسے لایا گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے سخت باز پرس کی، پھر آپ کے حکم پر اسے مشکیں کس کر سو کوڑے مارے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کڑی تنبیہ فرمائی کہ وہ آئندہ کبھی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا شوہر گھر پر موجود نہ ہو۔
اس واقعے سے یہ فقہی و انتظامی اصول واضح ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کے حکمران پر لازم ہے کہ وہ محاذِ جنگ پر مصروف مجاہدین کے پیچھے ان کے گھر بار اور عزت و آبرو کی حفاظت کو یقینی بنائے اور ان کی غیر موجودگی میں فتنے پھیلانے والے عناصر کو عبرتناک سزا دے۔