المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ حَدِّ السرقة باب: چوری کی شرعی حد کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أُتِيَ بِغُلَامٍ سَرَقَ فَأَمَرَ بِهِ فَشُبِرَ ، فَوُجِدَ سِتَّةَ أَشْبَارٍ إِلَّا أُنْمُلَةً ، فَتَرَكَهُ فَسُمِّيَ نُمَيْلَةَ .حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک ایسا لڑکا لایا گیا جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی پیمائش کا حکم دیا تو اس کا قد ایک پور کم چھ بالشت نکلا، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے (اس کے نابالغ ہونے کے شبہ کی بنا پر حد کا نفاذ) ترک فرما دیا اور اسی مناسبت سے اس کا نام 'نمیلہ' (پور والا) مشہور ہو گیا۔
اس اثر سے فقہائے کرام یہ استدلال کرتے ہیں کہ حدود کے نفاذ کے لیے مجرم کا سنِ بلوغ کو پہنچنا شرط ہے اور اس عہد میں بلوغت کی پہچان کے لیے جسمانی پیمائش کو بھی ایک معیار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔