المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ حَدِّ السرقة باب: چوری کی شرعی حد کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أُتِيَ بِوَصِيفٍ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ سَرَقَ فَأَمَرَ بِهِ فَشُبِرَ ، فَوُجِدَ سِتَّةَ أَشْبَارٍ ، فَقَطَعَهُ .
وَحَدَّثَنَا أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُتِبَ إِلَيْهِ فِي غُلَامٍ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَرَقَ ، فَكَتَبَ : إِنْ وَجَدْتُمُوهُ سِتَّةَ أَشْبَارٍ فَاقْطَعُوهُ ، فَوَجَدُوهُ سِتَّةَ أَشْبَارٍ يَنْقُصُ أُنْمُلَةً ، فَتُرِكَ وَسُمِّيَ نُمَيْلَةَ .ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں عمر بن عبداللہ بن ابی ربیعہ کا ایک نوجوان خادم لایا گیا جس نے چوری کی تھی، آپ رضی اللہ عنہ کے حکم پر اسے بالشتوں سے ناپا گیا تو وہ چھ بالشت کا نکلا، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے (بلوغت کی حد تک پہنچنے کی بنا پر) اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔
اسی طرح یہ روایت بھی بیان کی گئی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو عراق کے ایک لڑکے کے متعلق مکتوب لکھا گیا جس نے چوری کی تھی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً تحریر فرمایا کہ ”اگر تم اسے چھ بالشت کا پاؤ تو اس کا ہاتھ کاٹ دو“، جب اسے ناپا گیا تو وہ چھ بالشت میں سے ایک پورے (انگلی کے ایک جوڑ) کے بقدر کم نکلا، اس بنا پر اسے چھوڑ دیا گیا اور اسی رعایت کی مناسبت سے اس کا نام 'نمیلہ' (چھوٹا پورا) پڑ گیا۔