❮
❯
حدیث نمبر: 1868
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَشْهَلُ - هُوَ ابْنُ حَاتِمٍ - ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُهُ وَقَدْ سَرَقَ بُرْدَةً ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا كُنْتُ أَدْرِي أَنْ يَبْلُغَ بُرْدَتِي مَا يُقْطَعُ فِيهِ يَدُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَوْلَا كَانَ هَذَا قَبْلُ .
هَذَا مُرْسَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
ترجمہ

امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں ایک دوسرے آدمی کو پکڑ کر لایا جس نے اس کی چادر چرائی تھی، چنانچہ آپ ﷺ نے (جرم ثابت ہونے پر) اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا، یہ دیکھ کر اس شخص نے (ندامت سے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے قطعی یہ اندازہ نہیں تھا کہ میری اس چادر کی قیمت اس حد تک پہنچ جائے گی کہ اس کی پاداش میں ایک مسلمان کا ہاتھ قلم کر دیا جائے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پھر یہ (معافی اور درگزر کا جذبہ) اس سے پہلے ہی کیوں نہ بیدار ہوا؟“
یہ حدیث مرسل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1868
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد الحارث حسن لكنه مرسل، والخطأ الذي نخشاه من أشهل قد زال بمجيء الحديث من طريق صفوان -وهو صاحب القصّة- بأسانيد صحيحة، قد صحح بعضها الحاكم وابن الجارود -كما سبق في التخريج- وكذا صحح حديث صفوان الألباني في الإرواء (7/ 347). »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»