المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ حَدِّ السرقة باب: چوری کی شرعی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 1868
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَشْهَلُ - هُوَ ابْنُ حَاتِمٍ - ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُهُ وَقَدْ سَرَقَ بُرْدَةً ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا كُنْتُ أَدْرِي أَنْ يَبْلُغَ بُرْدَتِي مَا يُقْطَعُ فِيهِ يَدُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَوْلَا كَانَ هَذَا قَبْلُ .
هَذَا مُرْسَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں ایک دوسرے آدمی کو پکڑ کر لایا جس نے اس کی چادر چرائی تھی، چنانچہ آپ ﷺ نے (جرم ثابت ہونے پر) اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا، یہ دیکھ کر اس شخص نے (ندامت سے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے قطعی یہ اندازہ نہیں تھا کہ میری اس چادر کی قیمت اس حد تک پہنچ جائے گی کہ اس کی پاداش میں ایک مسلمان کا ہاتھ قلم کر دیا جائے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پھر یہ (معافی اور درگزر کا جذبہ) اس سے پہلے ہی کیوں نہ بیدار ہوا؟“
یہ حدیث مرسل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں۔