المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ حَدِّ السرقة باب: چوری کی شرعی حد کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ - هُوَ الثَّوْرِيُّ - حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ سَرَقَ شَمْلَةً ، فَقَالَ : أَسَرَقْتَ ؟ مَا إِخَالُكَ تَسْرِقُ . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ . قَالَ : اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوا يَدَهُ ، ثُمَّ احْسِمُوهَا ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ ، فَقَطَعُوهُ ثُمَّ حَسَمُوهُ ، ثُمَّ أَتَوْا بِهِ فَقَالَ : تُبْ إِلَى اللهِ . فَقَالَ : أَتُوبُ إِلَى اللهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ .
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ - هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، هَكَذَا . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، وَقَالَ فِيهِ : لَا أُرَاهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَرَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مِنْ طَرِيقِ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ بِذِكْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَيْرِ شَكٍّ . قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : وَبَلَغَنِي أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ رَوَاهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ مَوْصُولًا .محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص لایا گیا جس نے ایک چادر چوری کی تھی، آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے چوری کی ہے؟ میرا گمان تو یہ تھا کہ تم چوری نہیں کر سکتے۔“ اس نے عرض کی: جی ہاں اے اللہ کے رسول!۔ آپ ﷺ نے حکم صادر فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر کٹے ہوئے مقام کو داغ دو اور پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ۔“ چنانچہ صحابہ نے اس کا ہاتھ کاٹ کر اسے داغ دیا اور پھر اسے آپ ﷺ کی خدمت میں لائے، آپ ﷺ نے اسے تلقین فرمائی: ”اللہ کے حضور توبہ کرو۔“ اس نے عرض کی: میں اللہ کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ان الفاظ میں دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ» ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“
اس حدیث کو امام ابو داؤد نے 'المراسیل' میں احمد بن عبدہ کے واسطے سے سفیان بن عیینہ سے اور انہوں نے یزید بن خصیفہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ امام بزار نے اسے احمد بن ابان کے واسطے سے عبد العزیز دراوردی سے اور انہوں نے یزید بن خصیفہ سے روایت کرتے ہوئے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا ہے، نیز امام دارقطنی نے یعقوب دورقی کے طریق سے اسے بغیر کسی شک کے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے موصولاً روایت کیا ہے اور امام دارقطنی کا بیان ہے کہ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ محمد بن اسحاق نے بھی اسے یزید بن خصیفہ سے موصولاً ہی روایت کیا ہے۔