المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ الأوعية باب: برتنوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1838
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا ، فَكَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَكْرَهُهُ .
1838 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ - هُوَ الدَّوْرَقِيُّ - ، ثَنَا الطَّيَالِسِيُّ بِهِ .
1838 \ 3 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، ثَنَا حَرَمِيٌّ ، ثَنَا شُعْبَةُ - بِهِ مُخْتَصَرًا .ترجمہ
امام طیالسی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں شعبہ نے قتادہ کے واسطے سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مٹی کے سبز گھڑے میں تیار کردہ نبیذ (کھجور یا انگور کا شربت) کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے کوئی بات نہیں سنی، تاہم سیدنا انس رضی اللہ عنہ خود اسے ناپسند فرمایا کرتے تھے۔
امام ابو یعلیٰ نے اس حدیث کو احمد الدورقی کے واسطے سے امام طیالسی ہی کی سابقہ سند سے روایت کیا ہے، جبکہ ایک اور طریق میں عبید اللہ نے حرمی سے اور انہوں نے شعبہ کے واسطے سے اسی روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔