❮
❯
حدیث نمبر: 1836
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَلَمَّا أَرَادُوا الِانْصِرَافَ قَالُوا : قَدْ حَفِظْتُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ سَمِعْتُمُوهُ مِنْهُ ، فَسَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ . فَأَتَوْهُ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ مُخِمَّةٍ ، لَا يُصْلِحُنَا فِيهَا إِلَّا الشَّرَابُ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا شَرَابُكُمْ ؟ قَالُوا : النَّبِيذُ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي أَيِّ شَيْءٍ تَشْرَبُونَهُ ؟ قَالُوا : فِي النَّقِيرِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ .
فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ ، فَقَالُوا : وَاللهِ ، لَا يُصَالِحُنَا قَوْمُنَا عَلَى هَذَا ، فَرَجَعُوا فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ لَهُمْ مِثْلَ ذَلِكَ . ثُمَّ عَادُوا ، فَقَالَ لَهُمْ : لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ ، فَيَضْرِبَ الرَّجُلُ مِنْكُمُ ابْنَ عَمِّهِ ضَرْبَةً لَا يَزَالُ أَعْرَجَ مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
قَالَ : فَضَحِكُوا . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَضْحَكُونَ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ شَرِبْنَا فِي نَقِيرٍ لَنَا ، فَقَامَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ فَضُرِبَ هَذَا ضَرْبَةً عَرِجَ مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
1836 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا .
ترجمہ

سیدنا اشعث بن عمیر العبدی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ عبد القیس کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب انہوں نے واپسی کا ارادہ کیا تو (آپس میں) کہنے لگے کہ تم نے نبی کریم ﷺ سے جو کچھ سنا اسے یاد کر لیا ہے، اب ان سے نبیذ (کھجور کے مشروب) کے بارے میں بھی دریافت کر لو، چنانچہ وہ حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں کی آب و ہوا موافق نہیں ہے اور وہاں ہمارے لیے اس مشروب کے سوا کوئی چیز درست نہیں رہتی، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہارا مشروب کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: نبیذ، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اسے کس برتن میں پیتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: نقیر (لکڑی کو کھوکھلا کر کے بنائے گئے برتن) میں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نقیر میں مت پیا کرو۔“
وہ وہاں سے نکلے تو (پریشانی میں) کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہماری قوم اس پابندی پر ہم سے اتفاق نہیں کرے گی، چنانچہ وہ دوبارہ لوٹے اور آپ ﷺ سے وہی سوال کیا، آپ ﷺ نے پھر وہی جواب دیا، وہ پھر واپس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نقیر میں مت پیا کرو، (کیونکہ اس میں نشہ تیزی سے پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں آپس میں لڑائی ہوتی ہے اور) تم میں سے کوئی شخص اپنے چچا زاد بھائی کو ایسی ضرب لگا دیتا ہے کہ وہ قیامت تک کے لیے لنگڑا ہو جاتا ہے۔“
راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر وہ وفد والے ہنس پڑے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم کس بات پر ہنس رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، ہم نے ایک بار اپنے اسی نقیر میں مشروب پی رکھا تھا کہ ہم میں سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہو گیا اور اس (ساتھی) کو ایسی ضرب لگی کہ وہ واقعی قیامت تک کے لیے لنگڑا ہو گیا (یعنی آپ ﷺ نے جس انجام سے ڈرایا وہ ہم پر بیت چکا ہے)۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی یہ روایت ابوبکر بن ابی شیبہ کے حوالے سے انہی الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1836
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 13، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3737/1»