المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ الأوعية باب: برتنوں کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : تَحَيَّنْتُ فِطْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ بِنَبِيذِ جَرٍّ . فَلَمَّا أَدْنَاهُ إِلَى فِيهِ فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ ، فَقَالَ : اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ ; فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ .سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں رسول اللہ ﷺ کے افطار کے وقت کا منتظر تھا، چنانچہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں مٹی کے ایک گھڑے میں تیار کردہ نبید (پانی میں بھگوئی ہوئی کھجوروں کا شربت) لے کر حاضر ہوا، مگر جب آپ ﷺ نے اسے نوش فرمانے کے لیے اپنے دہنِ مبارک کے قریب کیا تو اس میں تخمیر (جوش) کی کیفیت تھی اور وہ آواز کے ساتھ بلبلے چھوڑ رہا تھا، یہ دیکھ کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے دیوار پر دے مارو، کیونکہ یہ اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ تعالیٰ اور روزِ قیامت پر ایمان نہیں رکھتا۔“
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ کی اس روایت سے واضح ہے کہ جب نبید میں حد سے زیادہ جوش اور نشہ پیدا ہو جائے تو وہ حرام ہو جاتا ہے، اسی لیے آپ ﷺ نے اسے پینے کے بجائے ضائع کرنے کا حکم صادر فرمایا۔