المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي شرب غَيْرِ المسكر باب: غیر نشہ آور مشروب پینے کی اجازت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، ثَنَا مُسْلِمٌ الْأَعْوَرُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الشَّامَ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَجَاءَهُ دِهْقَانٌ يَسْتَدِلُّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، حَتَّى أَتَاهُ .
فَلَمَّا رَأَى الدِّهْقَانُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَجَدَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا هَذَا السُّجُودُ ؟ قَالَ : هَكَذَا نَفْعَلُ بِالْمُلُوكِ ! فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اسْجُدْ لِرَبِّكَ الَّذِي خَلَقَكَ ! فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي صَنَعْتُ لَكَ طَعَامًا فَأْتِنِي ! فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : هَلْ فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ مِنْ تَصَاوِيرِ الْعَجَمِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : لَا حَاجَةَ لَنَا فِي بَيْتِكَ ، وَلَكِنِ انْطَلِقْ فَابْعَثْ إِلَيْنَا بِلَوْنٍ مِنْ طَعَامٍ ، وَلَا تَزِدْنَا عَلَيْهِ .
قَالَ : فَانْطَلَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِالطَّعَامِ ، فَأَكَلَ مِنْهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِغُلَامِهِ : هَلْ فِي إِدَوَاتِكَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ النَّبِيذِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَتَاهُ بِهِ ، فَصَبَّهُ فِي إِنَاءٍ ، ثُمَّ شَمَّهُ ، فَوَجَدَهُ مُنْكَرَ الرِّيحِ . فَصَبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ شَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا رَابَكُمْ شَيْءٌ مِنْ شَرَابِكُمْ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا .سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی معیت میں ملکِ شام کا غزوہ کیا، تو ہم ایک منزل پر رکے جہاں ایک زمیندار (دہقان) امیر المؤمنین کا پتہ پوچھتا ہوا ان کے پاس حاضر ہوا
جب اس دہقان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو وہ (تعظیماً) سجدہ ریز ہو گیا، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ ”یہ کیسا سجدہ ہے؟“ اس نے عرض کیا کہ ہم اپنے بادشاہوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتے ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”صرف اپنے اس رب کو سجدہ کر جس نے تجھے پیدا کیا ہے!“ پھر اس نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین! میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہے، لہٰذا میرے ہاں تشریف لائیے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”کیا تیرے گھر میں عجمیوں کی بنائی ہوئی تصویروں میں سے کچھ ہے؟“ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمیں تیرے گھر میں (جانے کی) کوئی حاجت نہیں، البتہ تو جا کر ہمارے پاس کھانے کی کوئی ایک قسم بھیج دے اور اس پر اضافہ نہ کرنا۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے اور اس شخص نے آپ کی طرف کھانا بھیج دیا جسے آپ نے تناول فرمایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام سے پوچھا: ”کیا تیرے برتنوں میں اس نبیز میں سے کچھ باقی ہے؟“ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں، چنانچہ وہ اسے لے آیا اور آپ نے اسے ایک برتن میں انڈیلا، پھر اسے سونگھا تو اس کی بو ناگوار (تیز) محسوس ہوئی، چنانچہ آپ نے اس پر تین مرتبہ پانی ڈالا (تاکہ اس کی تیزی ختم ہو جائے)، پھر اسے نوش فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”جب تمہیں اپنے کسی مشروب کے بارے میں کھٹکا یا شک ہونے لگے تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔“