المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي شرب غَيْرِ المسكر باب: غیر نشہ آور مشروب پینے کی اجازت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُجَيْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَمِّهِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَلَسْنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَقَالَ : مَا لَكُمْ قَدِ اصْفَرَّتْ أَلْوَانُكُمْ ، وَعَظُمَتْ بُطُونُكُمْ ، وَظَهَرَتْ عُرُوقُكُمْ ؟ فَقَالُوا : أَتَاكَ سَيِّدُنَا فَسَأَلَكَ عَنْ شَرَابٍ كَانَ لَنَا مُوَافِقًا ، فَنَهَيْتَهُ عَنْهُ ، وَكُنَّا بِأَرْضٍ وَبِئَةٍ مُخِمَّةٍ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَاشْرَبُوا مَا طَابَ لَكُمْ .سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھے کہ اسی اثنا میں قبیلہ عبد القیس کا وفد آیا، تو آپ ﷺ نے (ان کی نحیف حالت دیکھ کر) دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تمہارے رنگ زرد پڑ گئے ہیں، پیٹ بڑھ گئے ہیں اور رگیں نمایاں ہو رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے سردار آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے اور انہوں نے آپ سے اس مشروب (نبیذ وغیرہ) کے بارے میں دریافت کیا تھا جو ہماری طبیعت کے موافق تھا، مگر آپ نے انہیں اس کے استعمال سے منع فرما دیا، حالانکہ ہم ایک ایسی سرزمین میں مقیم ہیں جو وبا زدہ اور سخت حبس والی ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم وہ (پاکیزہ) مشروبات پی لیا کرو جو تمہیں بھلے لگیں اور تمہارے لیے موزوں ہوں۔“