المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ كُلِّ مسكر حرام وتفسير الطلاء والخليط باب: ہر نشہ آور چیز کی حرمت اور طلاء و خلیط کی تشریح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1821
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ : كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَشْرَبُ الطِّلَاءَ فِي الْجُبِّ الْمُقَيَّرِ .ترجمہ
سیدنا سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابودرداء «رَضِيَ اللهُ عَنْهُ» (اللہ ان سے راضی ہو) اس مٹکے میں انگور کا پکا ہوا گاڑھا شربت (طلاء) پی لیا کرتے تھے جس پر روغنِ قیر (تارکول) کی تہہ چڑھی ہوتی تھی۔
طلاء انگور کے اس شربت کو کہتے ہیں جسے آگ پر اس قدر پکایا جائے کہ اس کا دو تہائی حصہ خشک ہو جائے اور وہ گاڑھا ہو کر غیر نشہ آور ہو جائے، جبکہ مُقَیَّر سے مراد وہ برتن ہے جس کی اندرونی سطح پر لک یا تارکول کا لیپ کیا گیا ہو۔