المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ كُلِّ مسكر حرام وتفسير الطلاء والخليط باب: ہر نشہ آور چیز کی حرمت اور طلاء و خلیط کی تشریح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1820
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا سُفْيَانُ : حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : كُنْتُ أَغْلِي لِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الطِّلَاءَ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ ، وَيَبْقَى ثُلُثُهُ .ترجمہ
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے لیے انگور کے شربت (طلاء) کو آگ پر اس وقت تک پکاتی تھی جب تک کہ اس کے دو تہائی حصے ختم نہ ہو جاتے اور صرف ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا تھا۔
محدثین کے نزدیک 'طلاء' انگور کے اس رس کو کہتے ہیں جسے آگ پر اتنا پکا لیا جائے کہ اس کا نشہ ختم ہو کر وہ گاڑھا اور حلال ہو جائے، اور یہاں سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا کا یہ عمل اسی فقہی اباحت کو بیان کرتا ہے کہ ایسا شربت پینا جائز ہے۔