❮
❯
حدیث نمبر: 1806
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا كَانَ يُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ عَامٍ رَاوِيَةً مِنْ خَمْرٍ ، فَأَهْدَاهَا لَهُ عَامًا وَقَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ ! فَقَالَ الرَّجُلُ : أَفَلَا أَبِيعُهَا ؟ فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا . قَالَ : أَفَلَا أُكَارِمُ بِهَا الْيَهُودَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الَّذِي حَرَّمَهَا حَرَّمَ أَنْ يُكَارَمَ بِهَا الْيَهُودُ ! قَالَ : فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صُبَّهَا فِي الْبَطْحَاءِ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کو ہر سال شراب کا ایک بڑا مشکیزہ بطورِ ہدیہ پیش کیا کرتا تھا، ایک سال وہ اسے دوبارہ تحفے میں لایا جبکہ شراب (اسلام میں) حرام قرار دی جا چکی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”یقیناً اب یہ حرام کر دی گئی ہے!“ اس شخص نے عرض کیا: (اگر پینا منع ہے) تو کیا میں اسے فروخت نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے۔“ اس نے پھر دریافت کیا: کیا میں اسے یہودیوں کو ہدیہ کر کے ان سے حسنِ سلوک نہ کر لوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً جس نے اسے حرام کیا ہے، اس نے اس بات کو بھی حرام کر دیا ہے کہ اس کے ذریعے یہودیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے!“ اس نے عرض کیا: پھر میں اس کا کیا کروں؟ آپ ﷺ نے حکم دیا: ”اسے کھلی وادی (بطحاء) میں بہا دو۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1806
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن الدارمي برقم: 2103، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 590، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 114، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 12979، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3227، 7285، 7980، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 641»