❮
❯
حدیث نمبر: 1807
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفَ قَالَ : لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، جِئْتُ بِبِضَاعَتِي . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا بِضَاعَتُكَ ؟ قَالَ : الْخَمْرُ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْطَلِقْ بِهَا إِلَى الْبَطْحَاءِ ، فَحُلَّ أَفْوَاهَهَا فَأَهْرِقْهَا .
قَالَ : فَخَرَجَ بِهَا فَأَبَتْ نَفْسُهُ ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا لِي وَمَا لِعِيَالِي هَارِبٌ وَلَا قَارِبٌ غَيْرَهَا ! فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْرُجْ بِهَا إِلَى الْبَطْحَاءِ ، فَحُلَّ أَفْوَاهَهَا فَأَهْرِقْهَا . قَالَ : فَفَعَلَ .
ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ! فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ ، أَغْنِ فُلَانًا وَآلَ فُلَانٍ مِنْ فَضْلِكَ ! فَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ لَيَمُوتُ فَيُوَرِّثُ أَلْفَ بَعِيرٍ .
ترجمہ

قبیلہ ثقیف کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنا سامانِ تجارت لے کر آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہارا مالِ تجارت کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: شراب۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے بطحاء (مکہ کی کھلی وادی) کی طرف لے جاؤ، ان کے دہانے کھول دو اور اسے بہا دو۔“ وہ شخص وہ مال لے کر نکلا مگر اس کا نفس (اتنے بڑے مالی نقصان پر) تذبذب کا شکار ہوا، چنانچہ وہ دوبارہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور التجا کی: اے اللہ کے رسول! میرے اور میرے اہل و عیال کے پاس اس کے سوا گزربسر کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے! رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ وہی حکم صادر فرمایا: ”اسے بطحاء کی طرف لے جاؤ، اس کے منہ کھول دو اور اسے بہا دو۔“ چنانچہ اس شخص نے ویسا ہی کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں واپس آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے تعمیلِ ارشاد کر دی ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک اس قدر بلند کیے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نمایاں ہونے لگی، پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ، أَغْنِ فُلَانًا وَآلَ فُلَانٍ مِنْ فَضْلِكَ» "اے اللہ! فلاں شخص اور فلاں کے گھر والوں کو اپنے فضل سے غنی فرما دے!"۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ اس نبوی دعا کی برکت کا یہ عالم تھا کہ بعد ازاں اس گھرانے کا جو فرد بھی فوت ہوتا، وہ اپنے پیچھے ایک ہزار اونٹ بطورِ میراث چھوڑ کر جاتا تھا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1807
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»