❮
❯
حدیث نمبر: 1805
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ كَانَ يُهْدِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ عَامٍ رَاوِيَةَ خَمْرٍ ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى تَحْرِيمَ الْخَمْرِ جَاءَ بِهَا ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ ، وَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ ! فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَبِيعُهَا وَأَنْتَفِعُ بِثَمَنِهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ ; حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ، فَأَذَابُوهُ وَبَاعُوهُ . فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَثَمَنَهَا .
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ترجمہ

سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ہر سال رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں شراب کا ایک بڑا مشکیزہ بطورِ ہدیہ پیش کیا کرتے تھے، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرما دی تو وہ (حسبِ معمول) اسے لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے جب اسے دیکھا تو آپ ﷺ تبسم فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”تمہاری غیر موجودگی میں اسے حرام کر دیا گیا ہے!“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو کیا میں اسے فروخت کر کے اس کی قیمت سے نفع حاصل کر لوں؟ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے؛ ان پر گائے اور بکری کی چربی حرام کی گئی تھی تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا (اور اس کی قیمت کھا گئے)، یقیناً اللہ تعالیٰ نے شراب کو بھی حرام قرار دیا ہے اور اس کی قیمت وصول کرنے کو بھی۔“
یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1805
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 17534، وأخرجه فتح الباري برقم: 4344، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1275، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3724»