المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ مبتدأ تَحْرِيمِ الخمر باب: شراب کی حرمت کے آغاز کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي تَوْبَةَ الْمِصْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : نَزَلَتْ فِي الْخَمْرِ ثَلَاثُ آيَاتٍ : فَأَوَّلُ شَيْءٍ نَزَلَ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ... الْآيَةَ ، فَقِيلَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ؟ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، دَعْنَا نَنْتَفِعْ بِهَا كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ! فَسَكَتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ .
ثُمَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى ... الْآيَةَ . فَقِيلَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ؟ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا لَا نَشْرَبُهَا قُرْبَ الصَّلَاةِ ، فَسَكَتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ .
ثُمَّ نَزَلَتْ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ .
وَقُدِّمَتْ لِرَجُلٍ رَاوِيَةٌ مِنَ الشَّامِ - أَوْ رَوَايَا - ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .امام طیالسی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ شراب کے متعلق تین آیات نازل ہوئیں، پس سب سے پہلے جو آیت نازل ہوئی وہ یہ تھی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾ (سورۃ البقرہ: 219) یعنی وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں؛ اس پر پوچھا گیا کہ کیا شراب حرام کر دی گئی؟ تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس سے (تجارت وغیرہ کے ذریعے) نفع اٹھانے دیں جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے، تو رسول اللہ ﷺ ان کی اس بات پر خاموش رہے۔
پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ (سورۃ النساء: 43) یعنی اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ تم وہ سمجھنے لگو جو تم زبان سے ادا کر رہے ہو؛ پھر دریافت کیا گیا کہ کیا اب شراب حرام ہو گئی؟ تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اسے نماز کے اوقات کے قریب نہیں پیئیں گے، تو آپ ﷺ اس پر بھی خاموش رہے۔
پھر یہ حتمی آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (سورۃ المائدہ: 90) یعنی اے ایمان والو! حقیقت یہ ہے کہ شراب، جوا، بت اور فال کے تیر شیطانی عمل کے ناپاک کام ہیں، لہٰذا ان سے مکمل اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ؛ تب رسول اللہ ﷺ نے صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”شراب (قطعی طور پر) حرام کر دی گئی ہے“۔
(اس حکم کے بعد) ایک شخص کے پاس ملکِ شام سے شراب کی ایک بڑی مشک یا کئی مشکیں لائی گئیں، تو نبی کریم ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم (اسے تلف کرنے کے لیے) کھڑے ہوئے۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔