المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ حَدِّ الخمر باب: شراب نوشی کی حد کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : " لَمْ يَفْرِضْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ حَدًّا ، حَتَّى فَرَضَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ " .
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ : " ثُمَّ فَرَضَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ ، ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَلَدَ ثَمَانِينَ وَأَرْبَعِينَ ; كَانَ إِذَا أُتِيَ بِالرَّجُلِ الَّذِي قَدْ تَضَلَّعَ مِنَ الشَّرَابِ جَلَدَهُ ثَمَانِينَ ، وَإِذَا أُتِيَ بِالرَّجُلِ قَدْ زَلَّ زَلَّةً جَلَدَهُ أَرْبَعِينَ ".امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے شراب نوشی کے معاملے میں کوئی حتمی حد مقرر نہیں فرمائی تھی، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے چالیس کوڑوں کی سزا متعین فرمائی۔“
امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے (بگڑتے حالات کے پیشِ نظر) اسی کوڑے مقرر کر دیے، جبکہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں کبھی اسی اور کبھی چالیس کوڑے لگائے جاتے تھے؛ صورتحال یہ تھی کہ جب ان کے پاس کوئی ایسا شخص لایا جاتا جو شراب نوشی کا رسیا ہوتا اور کثرتِ مئے نوشی کی وجہ سے اس میں دھت رہتا تو اسے اسی کوڑے لگاتے، اور جب کوئی ایسا شخص پیش کیا جاتا جس سے محض کوئی اتفاقیہ لغزش یا چوک ہوئی ہوتی تو اسے چالیس کوڑے لگاتے۔“