المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ تَحْرِيمِ دَمِ المسلم وعرضه باب: مسلمان کے خون اور عزت و آبرو کی حرمت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : وَجَدْتُ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا : " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عُتُوًّا مَنْ ضَرَبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ ، وَرَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، وَرَجُلٌ تَوَلَّى غَيْرَ أَهْلِ نِعْمَتِهِ ; فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ ، وَلَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا .
وَفِي الْآخَرِ : الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ ، وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ لَيَالٍ مَعَ غَيْرِ مَحْرَمٍ ".امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستے میں ایک تحریر لکھی ہوئی پائی کہ: ”لوگوں میں سرکشی اور حد سے تجاوز کے اعتبار سے سب سے بدتر وہ شخص ہے جو اسے مارے جس نے اسے نہیں مارا، اور وہ شخص جو اپنے (مقتول کے) اصل قاتل کے علاوہ کسی اور کو (بدلے میں) قتل کرے، اور وہ شخص جو اپنے حقیقی محسنوں اور مربیوں کو چھوڑ کر کسی اور سے وفاداری کا تعلق جوڑ لے؛ پس جس نے ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا انکار کیا، اور اللہ تعالیٰ اس کا کوئی فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔“
اور اسی نوعیت کی ایک دوسری روایت میں مروی ہے کہ: ”تمام مسلمانوں کے خون اور اموال (قصاص و دیت میں) برابر ہیں، ان کا ایک ادنیٰ درجے کا مسلمان بھی کسی کو پناہ دے دے تو سب مسلمانوں پر اس کی پاسداری لازم ہے، کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی ذمی (معاہد) کو اس کی مدتِ معاہدہ کے دوران قتل کیا جائے گا، دو مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے، کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں (نکاح میں جمع کر کے) نکاح نہیں کیا جائے گا، عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی (نفلی) نماز نہیں، اور کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر تین راتوں کی مسافت کا سفر نہ کرے۔“