المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النذر باب: نذر (منت) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : إِنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً نَاشِرَةً شَعَرَهَا ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْهَا ، فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْكَبْ ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ".سیدنا عبد اللہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے یہ نذر مانی کہ وہ پیدل چل کر اور اپنے بال بکھیرے ہوئے (سر ننگے) حج کریں گی، پس عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں حکم دو کہ وہ اوڑھنی اوڑھ لیں (اپنا سر ڈھانپیں)، سواری پر سوار ہوں اور تین دن کے روزے رکھیں۔“
ائمہ حدیث اور فقہاء اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ایسی نذر جس میں کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی یا حد سے زیادہ مشقت ہو اس کا پورا کرنا لازم نہیں بلکہ اس کی جگہ کفارہ (جیسے روزے یا صدقہ) ادا کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کو بلاوجہ مشقت میں ڈالنے سے بے نیاز ہے۔