❮
❯
حدیث نمبر: 1785
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : إِنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً نَاشِرَةً شَعَرَهَا ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْهَا ، فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْكَبْ ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ".
ترجمہ

سیدنا عبد اللہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے یہ نذر مانی کہ وہ پیدل چل کر اور اپنے بال بکھیرے ہوئے (سر ننگے) حج کریں گی، پس عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں حکم دو کہ وہ اوڑھنی اوڑھ لیں (اپنا سر ڈھانپیں)، سواری پر سوار ہوں اور تین دن کے روزے رکھیں۔“
ائمہ حدیث اور فقہاء اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ایسی نذر جس میں کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی یا حد سے زیادہ مشقت ہو اس کا پورا کرنا لازم نہیں بلکہ اس کی جگہ کفارہ (جیسے روزے یا صدقہ) ادا کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کو بلاوجہ مشقت میں ڈالنے سے بے نیاز ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1785
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1767، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1644، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 1544، وأخرجه سنن النسائي برقم: 3815، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3293، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2134، وأخرجه مسند أحمد برقم: 16840، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2334، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 2، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4856، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 4082»