المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النذر باب: نذر (منت) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1784
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ ذَوْدًا بِبُوَانَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَلَفْتَ عَلَى ذَلِكَ ، وَقُلْتَ ذَلِكَ وَفِي نَفْسِكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَانْحَرْهَا ".ترجمہ
عکرمہ بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مقامِ 'بوانہ' پر اونٹوں کا ایک مختصر گلہ ذبح کرنے کی نذر مانی، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے یہ نذر اس وقت مانی تھی اور یہ بات تب کہی تھی جب تمہارے دل میں دورِ جاہلیت کے امور میں سے کسی باطل خیال کا اثر موجود تھا؟“ اس شخص نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پھر اپنی نذر پوری کرتے ہوئے انہیں ذبح کر لو۔“