المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النذر باب: نذر (منت) کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو يَعْلَى عَنْهُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُرَيْبٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنْ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَمَّتَهُ الْفُرَيْعَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ لَمْ تَقْضِهِ ، أَيُجْزِئُ إِنْ قَضَيْتُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ ، فَقَضَيْتِهِ - أَمَا كَانَ يُقْبَلُ مِنْكِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ بِذَلِكَ ! "
قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَعَلَيْهَا مَشْيٌ إِلَى الْكَعْبَةِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَمْشِيَ عَنْهَا ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَامْشِي عَنْ أُمِّكِ ".سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا سنان بن عبداللہ الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے انہیں بتایا کہ ان کی پھوپھی فریعہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں: اے اللہ کے رسول! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمے ایک نذر (منت) تھی جسے وہ پورا نہ کر سکیں، کیا اگر میں ان کی طرف سے وہ نذر پوری کر دوں تو یہ ان کی جانب سے کافی ہو جائے گی؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بھلا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر کسی کا قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتیں، تو کیا وہ تمہاری طرف سے قبول نہ کیا جاتا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے (کہ اس کا قرض چکایا جائے)۔“
اس پر انہوں نے دوبارہ دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو چکی ہیں اور ان کے ذمے کعبہ تک پیدل چلنے (کی نذر) تھی؟ تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم ان کی طرف سے پیدل چلنے کی استطاعت رکھتی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پھر اپنی والدہ کی طرف سے تم خود پیدل چل کر (اس نذر کو پورا) کرو۔“