المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الأيمان والنذور باب: قسموں اور نذروں (منتوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1779
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، نَبَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْخُوَارِ مَوْلًى لِبَنِي عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ فِي الْمَوْسِمِ يُنَادِي فِي النَّاسِ ، قَالَ سُفْيَانُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا حَقَّ مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، إِلَّا لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ".ترجمہ
سیدنا حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حج کے ایام میں لوگوں کے درمیان پکار کر یہ اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بھی کسی مسلمان کے مال کا کوئی حصہ ناحق حاصل کرنے کی غرض سے جھوٹی قسم کھاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت غضبناک ہوگا“۔
امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک میرے علم میں ہے انہوں نے یہ روایت اللہ کے نبی ﷺ ہی کے حوالے سے مرفوعاً بیان فرمائی ہے۔