المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الأيمان والنذور باب: قسموں اور نذروں (منتوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1780
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، نَبَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ : سَمِعْتُ رُفَيْعًا أَبَا الْعَالِيَةِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " كُنَّا نَعُدُّ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِي لَا كَفَّارَةَ لَهُ الْيَمِينَ الْغَمُوسَ " . قَالَ : قِيلَ : وَمَا هِيَ ؟ قَالَ : اقْتِطَاعُ مَالِ الرَّجُلِ بِيَمِينِهِ .ترجمہ
سیدنا ابو عبد الرحمن یعنی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا: ”ہم ’یمینِ غموس‘ (ایسی جھوٹی قسم جو انسان کو گناہ یا آگ میں غرق کر دے) کو ان کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے تھے جن کا (صرف توبہ اور حق کی واپسی کے سوا) کوئی کفارہ نہیں ہے“، راوی بیان کرتے ہیں کہ دریافت کیا گیا کہ یمینِ غموس کیا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”کسی دوسرے شخص کا مال اپنی (جھوٹی) قسم کے ذریعے غصب کر لینا۔“