المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الأيمان والنذور باب: قسموں اور نذروں (منتوں) کا بیان۔
وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ، وَاللهِ لَا أَحْمِلُكُمْ " .
قَالَ : فَتَرَكَنَا أَيَّامًا ، فَأُتِيَ بِإِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ جِمَالٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَانْصَرَفْنَا بِهَا ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي : وَاللهِ مَا أَظُنُّ يُبَارَكُ لَنَا فِيهَا ! إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا فَلَعَلَّهُ نَسِيَ ، فَارْجِعُوا بِنَا إِلَيْهِ نُذَكِّرْهُ بِيَمِينِهِ .
فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، يَمِينُكَ الَّتِي حَلَفْتَ عَلَيْهَا أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَرَفْتُ يَمِينِي ، مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ".سیدنا عمران بن حصین خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں چند افراد کی جماعت کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تاکہ ہم آپ سے سواری طلب کریں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کوئی سواری موجود نہیں، اور اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری فراہم نہیں کروں گا۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں چند روز انتظار کرنا پڑا، پھر آپ ﷺ کے پاس صدقے کے اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے مجھے بلا بھیجا اور ہمارے لیے سفید کوہان والے تین بہترین اونٹ عطا کرنے کا حکم فرمایا۔ جب ہم وہ اونٹ لے کر روانہ ہوئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں لگتا کہ ان اونٹوں میں ہمارے لیے برکت ہوگی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سواری نہ دینے پر قسم کھائی تھی، شاید آپ ﷺ بھول گئے ہیں، لہٰذا ہمیں واپس پلٹنا چاہیے تاکہ آپ ﷺ کو آپ کی قسم یاد دلا دیں۔
چنانچہ ہم دوبارہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی وہ قسم کہاں گئی جو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے پر کھائی تھی؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اپنی قسم اچھی طرح یاد ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) تم میں سے جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور پھر اسے اس کے علاوہ کسی دوسری صورت میں زیادہ خیر و بھلائی نظر آئے، تو اسے وہی کام کرنا چاہیے جو بہتر ہو، اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔“