المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الأيمان والنذور باب: قسموں اور نذروں (منتوں) کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَوْ غَيْرُهُ ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي عَابِدٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبِلًا ، فَعَرَضَهَا ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، احْذُنِي ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا " . فَقَالَ لَهُ ثَلَاثًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللهِ لَا أَفْعَلُ " ، إِلَى أَنْ بَقِيَ أَرْبَعٌ عُزْرُ الذُّرَى ، فَقَالَ : " خُذْهُنَّ يَا أَبَا مُوسَى " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي اسْتَحْذَيْتُكَ فَمَنَعْتَنِي ، وَحَلَفْتَ فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْمٌ .
قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي إِذَا حَلَفْتُ ، فَرَأَيْتُ أَنَّ غَيْرَ ذَلِكَ أَفْضَلُ - كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي ، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُ ".سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو بطورِ غنیمت کچھ اونٹ عطا فرمائے، آپ ﷺ نے انہیں تقسیم کی غرض سے ملاحظہ فرمایا تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے بھی ان میں سے کچھ عطا فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے تین بار اصرار کیا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا“، یہاں تک کہ آخر میں چار ایسے اونٹ بچ گئے جو نہایت جاندار اور اونچی کوہان والے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو موسیٰ! انہیں لے لو“، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے عطا کا سوال کیا تھا تو آپ نے منع فرما دیا تھا اور قسم بھی کھائی تھی، اس لیے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ سے اپنی قسم کے متعلق کوئی سہو (بھول) تو نہیں ہو گیا کہ آپ نے مجھے یہ اونٹ عطا فرما دیے۔
اس پر آپ ﷺ نے نبوی اصول واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”میں جب کسی بات پر قسم کھا لیتا ہوں، پھر دیکھتا ہوں کہ اس کے علاوہ دوسری صورت میں زیادہ بہتری ہے، تو میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں اور وہی عمل اختیار کرتا ہوں جو زیادہ بہتر اور افضل ہوتا ہے“۔