المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الأيمان والنذور باب: قسموں اور نذروں (منتوں) کا بیان۔
وَحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : " يَا فُلَانُ ، فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ " قَالَ : لَا ، وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، مَا فَعَلْتُ ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْلَمُ أَنَّهُ فَعَلَهُ ، فَقَالَ لَهُ : " لَقَدْ كَفَّرَ اللهُ عَنْكَ كَذِبَكَ بِتَصْدِيقِكَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ " .
1776 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا الْحَارِثُ - بِهِ .
1776 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ - بِهِ .
وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقِ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي قُدَامَةَ وَهُوَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ - بِهِ . لَكِنْ خَالَفَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَهُوَ أَتْقَنُ مِنْهُ فِي ثَابِتٍ ، فَقَالَ : عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ .
قَالَ حَمَّادٌ : لَمْ يَسْمَعْ ثَابِتٌ هَذَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، بَيْنَهُمَا رَجُلٌ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے دریافت فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے یہ اور یہ کام کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: نہیں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں «لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ» (نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے)، میں نے یہ کام نہیں کیا؛ حالانکہ رسول اللہ ﷺ علم رکھتے تھے کہ اس نے وہ کام کیا ہے، مگر آپ ﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے تیرے کلمہ توحید «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں) کی تصدیق کی برکت سے تیرے جھوٹ کا کفارہ ادا کر دیا (یعنی اسے معاف کر دیا) ہے۔“
امام عبد بن حمید اور امام ابو یعلیٰ نے بھی اسے حارث کے واسطے سے روایت کیا ہے، نیز امام حاکم نے مالک بن اسماعیل عن ابی قدامہ (حارث بن عبید) کی سند سے اسے صحیح قرار دیا ہے، تاہم حماد بن سلمہ نے حارث کی مخالفت کی ہے اور وہ ثابت بن بنانی کے تلامذہ میں ان سے زیادہ ثقہ و اتقن مانے جاتے ہیں، انہوں نے اسے ثابت عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی سند سے بیان کیا ہے، اور حماد کا مزید یہ قول ہے کہ ثابت نے یہ روایت براہِ راست سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نہیں سنی بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک اور راوی کا واسطہ موجود ہے۔