المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الأيمان والنذور باب: قسموں اور نذروں (منتوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1767
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّهُ حَجَّ مَعَ ذِي قَرَابَةٍ لَهُ مُقْرِنًا بِهِ ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالَ : إِنَّهُ نَذْرٌ . " فَأَمَرَ بِالْقِرَانِ أَنْ يُقْطَعَ ".ترجمہ
ایک دیہاتی شخص اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کے ساتھ مل کر اس حال میں حج کیا کہ انہوں نے (بوجہِ نذر) خود کو ایک دوسرے کے ساتھ (رسی سے) باندھ رکھا تھا، جب نبی کریم ﷺ نے انہیں اس کیفیت میں دیکھا تو دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی کہ (اے اللہ کے رسول!) یہ ایک نذر ہے، تو آپ ﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ ”اس بندھن کو کاٹ دیا جائے“۔