❮
❯
حدیث نمبر: 1767
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّهُ حَجَّ مَعَ ذِي قَرَابَةٍ لَهُ مُقْرِنًا بِهِ ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالَ : إِنَّهُ نَذْرٌ . " فَأَمَرَ بِالْقِرَانِ أَنْ يُقْطَعَ ".
ترجمہ

ایک دیہاتی شخص اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کے ساتھ مل کر اس حال میں حج کیا کہ انہوں نے (بوجہِ نذر) خود کو ایک دوسرے کے ساتھ (رسی سے) باندھ رکھا تھا، جب نبی کریم ﷺ نے انہیں اس کیفیت میں دیکھا تو دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی کہ (اے اللہ کے رسول!) یہ ایک نذر ہے، تو آپ ﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ ”اس بندھن کو کاٹ دیا جائے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1767
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 20066، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4862»