المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الأيمان والنذور باب: قسموں اور نذروں (منتوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1766
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَعَالَى ، وَلَا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا يَمِينَ لِلْمَمْلُوكِ عَلَى سَيِّدِهِ ، وَلَا يَمِينَ لِزَوْجَةٍ مَعَ زَوْجِهَا ، وَلَا يَمِينَ لِوَلَدٍ مَعَ وَالِدِهِ ".ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی پر مبنی کسی کام میں کوئی نذر (ماننا) جائز نہیں ہے، اور نہ ہی قطع رحمی یعنی رشتہ داری توڑنے پر کوئی قسم (معتبر) ہے، اور نہ ہی اپنے آقا کے مقابلے میں غلام کی کوئی قسم ہے، اور نہ ہی اپنے شوہر کی موجودگی میں بیوی کی کوئی قسم ہے، اور نہ ہی اپنے والد کے سامنے اولاد کی قسم کا کوئی اعتبار ہے۔“