المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الأيمان والنذور باب: قسموں اور نذروں (منتوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1765
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَبَا مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعِنْدَهُ الْمِسْوَرُ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ ، وَنَافِعُ ابْنُ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثٌ لَا يَمِينَ فِيهِنَّ : لَا يَمِينَ لِلْوَلَدِ عَلَى وَالِدِهِ ، وَلَا يَمِينَ لِلْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا ، وَلَا لِلْعَبْدِ عَلَى سَيِّدِهِ ".ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس وقت ان کے پاس مسور، عبد اللہ بن شداد اور نافع بن جبیر رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے تو انہوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین صورتیں ایسی ہیں جن میں (ایک فریق کی دوسرے پر) کوئی قسم لازم نہیں آتی: اولاد کی اپنے والد پر کوئی قسم نہیں، عورت کی اپنے شوہر پر کوئی قسم نہیں، اور غلام کی اپنے آقا پر کوئی قسم نہیں۔“